آٹھ گھر

گذشتہ دنوں مجھےمیرے آٹھ گھر کا ایک ٹیگ لگا تھا۔ اب جس بلاگ سے ٹیگا گیا، خود وہ بلاگ ان دنوں کومے میں ہے لیکن بہرحال میں اپنا قرض اتار رہا ہوں۔ اب اس بلاگ اور بلاگر پر منحصر ہے کہ وہ میرا ٹیگ کیچ کرتا ہے یا نہیں۔۔۔ کیچ اٹ اف یو کین ;)

کھیل کے اصول:

بتانے ہیں آٹھ گھر۔ اگر آپ اپنے آٹھ گھر بناتے تو کہاں ہوتے؟ یہ شرط اضافی ٹانگی گئی ہے کہ وہ آٹھ کے آٹھ گھر اسی ملک میں ہونے چاہئیں جہاں آپ رہ رہے ہیں۔ بھئی یہ تو بے مانٹی ہے نا ;) خیر، چوں کہ اس ٹیگ کے ساتھ ٹیگنے والے نے یہی دُم چھلا لگانا پسند کیا ہے تو ہم بھی چار و ناچار سرِ تسلیم خم کیے دیتے ہیں۔ ویسے مابدولت کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ استطاعت ہو بھی تو آٹھ گھر بنانے کی زحمت ہرگز نہ کریں گے۔

میرا پہلا گھر۔۔۔
میرا پہلا گھر میرے پیارے شہر کراچی ہی میں ہوتا۔ ساحلِ سمندر کے پاس۔۔۔ بلکہ اگر میرے بس میں ہو تو ساحل کی ریت ہی پر اپنا پیارا سا چھوٹا سا گھروندا بنالوں۔ بس مسئلہ یہ ہوگا کہ گھروندے میں فِٹ نہیں ہوسکوں گا۔ صبح سویرے اٹھوں تو پُرسکون سمندر میرا استقبال کرے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں لہکتی لہکتی مجھے چھوکر گزرتی ہوئیں صبح بخیر کہیں۔۔۔ شام ہو تو ساحل کا سحر انگیز رومانوی نظارا مجھے اپنے سحر میں جکڑ کر دنیا کے ہر غم سے بے نیاز کردے۔۔۔ رات ہو تو گہری تاریکی، سناٹا، خاموشی۔۔۔ سوائے لہروں کے ہلکے ہلکے شور کے کوئی آواز نہیں۔۔۔ کیا خوب زندگی ہو۔۔۔

میرا دوسرا گھر۔۔۔
یوں تو اس پہلے گھر کے بعد دوسرا گھر بنانے کا تصور کرنا ہی محال ہے کہ سب کچھ تو پہلے ہی گھر میں ہے۔۔۔ لیکن اگر پھر بھی کوئی ڈنڈا لے کر مجھ پر سوار ہوجائے کہ تم نے دوسرا گھر بنانا ہی ہے تو میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے پاس ایک گھر بنانا چاہوں گا۔ وہ علاقہ بہت اچھا ہے۔ عقبی حصہ تو کافی پُرسکون، سرسبز اور صاف ستھرا ہے۔ اس گھر میں میرے کمرے کی کھڑکی مزارِ قائد کی طرف کھلتی ہو اور میں جب صبح سویرے اٹھوں تو بستر سے اتر کر کھڑکی میں جاکھڑا ہوں اور قائد کو سلام پیش کروں کہ ان کی شب و روز کڑی محنت سے ہمیں یہ ارضِ پاک میسر آئی۔

میرا تیسرا گھر۔۔۔
میرا تیسرا گھر ایک انتہائی گندے نالے اور کچرے کوڑے کے بہت بڑے ڈھیر کے پاس ہوتا جہاں سے ہر وقت بدبو ہی بدبو اٹھتی رہتی اور وہاں ایک منٹ بھی ٹھہرنا دشوار ہوتا۔۔۔ کیا ہوا؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں وہاں کس لیے گھر بناتا؟ ارے صرف بناتا۔۔۔ رہتا تھوڑی۔۔۔ وہاں تو میں اس قوم کے سیاستدانوں کو پکڑ پکڑ کر بند کرتا کہ منحوسو! رہو ساری زندگی یہاں۔

چوتھا گھر۔۔۔
چوتھا گھر ایوانِ صدر کے سامنے بناتا اور ایوانِ صدر سے کئی گنا زیادہ عالیشان بناتا۔۔۔ پھر زرداری کو کھانے کی دعوت پر بلاتا اور اس کو کہتا کہ حضور والا! اگر آپ کو عیش و آرام ہی چاہیے تو آئیے آپ اس گھر میں منتقل ہوجائیے لیکن یار! خدا کے واسطے اس ملک کی کرسیٴ صدارت کو چھوڑ کر لوگوں پر احسانِ عظیم کردو۔۔۔ آخر کار، صدارت کی کرسی پر ہمارا بھی کچھ حق بنتا ہے۔ :P

پانچواں گھر۔۔۔
اففف۔۔۔ ابھی چار مزید گھر بنانا رہتے ہیں۔۔۔ اگر میرا پانچواں گھر ہوتا تو شاید لاہور شہر میں ہوتا۔ سچ کہوں تو مجھے لاہور کے اکلوتے دورے میں ایسا کوئی خاص لطف تو بالکل نہیں آیا تھا لیکن میرا ایک کزن میرے پیچھے پڑا ہے کہ لاہور منتقل ہوجاؤ۔۔۔ اب اگر وسائل بنے تو ضرور وہاں بھی ایک گھر بناکر رکھوں گا تاکہ آنا جانا رہے۔

چھٹا گھر۔۔۔
ہمم۔۔۔ ہمم۔۔۔ ارے بس بھئی۔۔۔ اتنا کافی ہے۔۔۔ ہم تو یہیں تھک گئے۔ آٹھ گھر نہ ہوئے، مصیبت ہوگئے۔۔۔ اتنا مشکل آٹھ گھر بنانا نہیں ہوگا، جتنا ان کا سوچنا۔۔۔ یار! ہم درویشوں کو لوگ ایسے جھنجھٹ میں ڈال دیتے ہیں :P توبہ توبہ!

Comments