کوئٹہ کا سفر۔ دوسری اور آخری قسط

فہیم اسلم کے قلم / کیبورڈ سے ؛)

اگلے دن آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ ماموں صبح سویرے ہی گھر سے جاچکے ہیں۔ ماموں کے ایک بندے کچھ طبیعت ناسازی کی وجہ سے چھٹی پر تھے انہوں نے ہی ہمارے ناشتے کا بندوبست کیا  ناشتے کے بعد میں نے زین سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ کہیں مصروف ہے کچھ دیر میں بتاتا ہے کہ کب آنا ہے۔
پھر زین کا فون آنے تک میں ٹی وی دیکھتا رہا۔ پھر جب زین کی جانب سے گرین سگنل ملا تو میں نے اٹھ کر تیاری کی اور ناظم اخبار کے دفتر جا پہنچا۔
زین وہاں گویا بس میرے ہی انتظار میں بیٹھا تھا کہ میرے وہاں جاتے ہیں بس ہم وہاں سے نکل کھڑے ہوئے۔ اور کافی لمبی سڑکیں ناپنے کے بعد ایکسپریس نیوز کے آفس جا پہنچے۔
وہاں زین کا ایک دوست کام کرتا ہے ہم لوگ وہاں اس کی بائیک لینے گئے تھے کہ "ہنہ اوڑک" جایا جاسکے۔ وہاں سے بائیک لے کر نکلے زین نے ہمیں آفر دی کہ ہم چلالیں جو ہم نے بنا کسی تکلف کے قبول کرلی۔ راستے میں ہی سرینا ہوٹل پڑا زین نے کہا کہ پہلے وہیں چلتے ہیں وہاں بلوچستان کے صوبائل وزیرِ خزانہ صاحب کی کوئی تقریر شقریر ہونی تھی۔
وہاں ہمیں کوئی ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔ اس عرصے میں ہم سرینا کے باغ میں بھی تشریف فرما ہوئے وزیر صاحب کا بھاشن بھی سنا اور مفت کے لنچ کے مزے بھی لیے۔
پھر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سیدھے ہنہ اوڑک کا راستہ پکڑا۔ کہیں گھومتا ہوا کہیں سیدھا اطراف میں کہیں پہاڑ کہیں باغات کہیں میدان۔ ایسے ہی خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہم کوئی ایک گھنٹے میں ہنہ اوڑک جا پہنچے۔
ہنہ اوڑک بلا شبہ ایک خوبصورت جگہ ہے۔ گرمی کے ستائے لوگوں کے لیے تو وہ واقعی کسی نعمت سے کم نہیں۔ پہاڑ سے ایک آبشار باریک لکیر کی صورت میں گرتا ہوا نیچے آرہا ہے جو آگے آکر کہیں چوڑا ہوگیا۔ کہیں پتہ کہیں تالاب کی سی صورت میں بہتا ہوا آگے بڑھا چلا جارہا ہے۔ صاف شفاف موتی کی طرح چمک دار پانی اور ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈک بھی ایسی جو راحت دینے والی نہ کہ فریزر کے ٹھنڈے پانی کی طرح جلا دینے والی۔ اسی پانی میں پڑے صاف چمک دار پتھر، کہیں بھی کائی کا ہلکا سا نشان بھی نہیں۔ اور پانی ہے جو بس اپنی موج میں بڑھا چلا جارہا ہے۔
وہاں جاکر تو روح تک کو سکون سا مل گیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں اس لیے میں وہاں جانے کے لحاظ سے تیاری کرکے نہیں گیا تھا۔ ورنہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ایسی کوئی جگہ ہے تو میں تیاری کرکے جاتا لیکن اس کے باوجود میں جیسے گیا تھا مجھے سے رہا نہیں گیا اور میں نے اس ٹھنڈے پانی میں خوب غوتے لگائے۔ میں کھدر کا کرتا پہنا ہوا تھا اس لیے مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ لیکن زین صاحب آف وائٹ کلر کا سوٹ پہنچے ہوئے تھے اس لیے وہ میری طرح مزے نہیں لے سکے ۔ :P
شام ہوچلی تھی اور سورج نے مغرب کی طرف جھکنا شروع کردیا تھا جب ہم نے وہاں سے واپسی کا سفر شروع کیا۔
زین صاحب نے کہا کہ اس بار بائیک وہ چلائیں گے ہم نے ان کی بات مان لی لیکن کچھ دور جانے کے بعد جب 2 بار ایک ہی جیسی حرکت سے سامنا پڑا تو میں نے پھر ایک طرح زین سے بائیک چھین لی کہ نہیں بس اب میں نے ہی چلانی ہے۔ اور پھر پورے راستے بائیک میں نے ہی بھگائی۔
ایک مزے کی بات یہ بھی کہ کوئٹہ میں کوئی 2006 سے بائیک پر ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے ڈبل سواری پر اتنا لمبا سفر کیا نہ صرف یہ بلکہ جس بائیک پر سفر کیا اس کی نہ نمبر پلیٹ تھی نہ کاغذات، لیکن اس کے باوجود بھی پورے راستے آتے جاتے کسی نے ہمیں نہیں روکا نہ ٹوکا۔
جب بالکل شہر میں پہنچ گئے تو میں نے بائیک زین کو دی اور اس نے مجھے گھر ڈراپ کیا اور اپنے راہ ہولیا۔
اور میرے دوسرے دن کا سفر بھی یہیں تمام ہوا۔

اگلے یعنی تیسرے دن بھی آنکھ کھلنے پر ناشتہ حاضر ہوگیا۔ ناشتہ وغیرہ کر کرا کر پھر روز کی طرح زین سے رابطہ اور پھر اس کی جانب سے کلیئرنس ملنے کا انتظار۔ اور جب گرین سگنل ملا تو ہم نے اٹھ کر تیاری پکڑی۔ اس دن کی خاص بات کہ میں نے بنا کسی جھجک کے جینز اور اپنی فیورٹ آئی لو والی ٹی شرٹ پہنی۔ ماموں خود ہوتے تو شاید بہت اعتراض کرتے لیکن جو صاحب تھے انہوں نے ہلکا سا اعتراض کیا لیکن ہم اس کو خاطر میں نہ لائے۔
اور تیار ہوکر نکل پڑے۔ کچھ اور ایڈونچر کی خاطر ہم نے بجائے رکشے کے لوکل بس کا انتخاب کیا اور اس میں سوار ہوکر کوئٹہ ٹیکسی اسٹینڈ کی جانب چل پڑے۔
اور بس میں موجود لوگوں کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر اپنے اسٹاپ پر اتر کر زین کے ٹھکانے جا پہنچے۔
اس دن زین اور میں نے ٹھیک ٹھاک آوارہ گردی کی۔ لنچ میں چپلی کباب کھائے، کوئٹہ کا مشہور منشیات فروشوں کے نالے کے بھی درشن کیے، کوئٹہ کی مشہور آئسکریم "شیریخ" نوش فرمائی اور زین کے ساتھ دنیا نیوز پیپر کے آفس میں جاکر مفت کے نیٹ کے مزے بھی لیے۔ اور سب سے آخر میں زین مجھے لے کر سماء ٹی وی کے آفس گیا۔ پھر جب مغرب کا ٹائم ہونا شروع ہوچلا تو میں نے زین سے اجازت چاہی کہ شاید یہ اب ہماری آخری ملاقات ہے اب شاید میں کل کراچی کے لیے روانہ ہوجاؤں۔
اور پھر زین سے گلے لگ کر اور اللہ حافظ کرکے میں اپنے ٹھکانے لوٹ آیا۔

زین کے متعلق میں یہ لکھوں گا کہ زین بہت ذہین پر سیدھا سادہ لڑکا ہے۔ اپنی عمر کے لحاظ سے اس میں سنجیدگی اور متانت قابل تعریف ہے۔ زین کی سادگی کی حد یہ کہ میری بہت سی مذاق کی باتوں کو وہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ میں نے کیا کہا اور کس پیرائے میں کہا۔ کبھی مسکرا دیتا تو کبھی بس شکل ہی تکتا اور کبھی اس کی درستگی میں لگ جاتا۔
اس کی "معصومیت" پر میں "قربان" جاؤں کہ وہ مجھے اتنا کند ذہن بھی سمجھ بیٹھا ہو کہ میں ایک بار کسی کا نام سننے کے بعد بھول جاؤں ;-)

کوئٹہ کے متعلق میں یہ لکھوں گا کہ کوئٹہ کی فضا میں آکسیجن کی بہت کمی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں سخت گرمی میں بھی موسم بے حد خشک تھا جیسا کہ کراچی میں عموماً سردیوں میں ہوتا ہے۔ اس خشکی کی وجہ سے میرے ہونٹ بھی پھٹ گئے :(
کراچی کے مقابلے کوئٹہ میں جو بات مجھے بہت پسند آئی وہ یہ کہ کوئٹہ میں لوڈشیڈنگ بہت کم ہوتی ہے۔ بہت زیادہ بھی اگر ہو تو چوبیس میں سے صرف چار گھنٹے۔ ورنہ تو بس کبھی ایک تو کبھی دو۔ کوئٹہ کے حالات وہاں رہنے والوں یعنی پختونوں اور بلوچوں کے لیے تو سازگار ہی ہیں؛ لیکن کسی باہر کے بندے کو بہرحال وہاں محتاط رہنا بہتر ہے۔

Comments

  1. مزہ آیا پڑھ کے ۔ زبردست . .


    (بآجو

    ReplyDelete
  2. تھینکس باجو۔

    ReplyDelete

Post a Comment